mashwani-haripur

شروع ھے اللہ کے نام سے جس نے سب کچھ بنايا

"Silence is Violence"

گدوالیاں، بگنیاں اور بسو میرا میں بجلی کا بحران

انتیس جولائ سے لیکر یکم اگست تک صرف 12 گھنٹے بجلی رھی-یعنی 96 گھنٹے میں 12 ۔ ماشاًاللہ  یہ وہ احوال ھے جو میں نے صرف 4 دن میں دیکھا۔اللہ گدوالیاں بگنیاں اور بسو میرا کے لوگوں پر رحم کرے یہ سارا کریڈ ت کس کو جاتا ھے۔  جناب سابقہ اور موجودہ ایکسیین صاحبان۔ ان سے میرا سوال ھے کہ آپ نے اپنے ادوار میں بجلی کی بلا رقاوٹ  ترسیل کے لیے کتنی کوششیں کی؟ کیا آب نے اگلے 50 سال تک کے لیے سرکار کو بجلی پنچانے والے ذرائع یعنی ٹرانفارمرٖز، تاریں، بجلی کی  بلا رکاوٹ  ترسیل کے بارے میں تجاویز اور ریکمنڈ یشنز دیں یا آپ نے بس سرکار کی گاڑیوں، اختیارات اور رشوت کو ھی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنایا؟چلیں آپ حضرات نے اپنے   پسندیدہ لوگوں  کو نوکریوں پر لگایا تو کیا آپ نے ان کی ٹریننگ یا ایجوکیشن کا بندوبست کیا؟ آخر کیوں ان گاوں میں بجلی کے یہ مسائل ھیں؟ بجلی کی لائینوں پر اگر لوڈ ھے تو یہ آخر کس کا قصور ھے؟آپ لوگوں کو کس چیز کی تنخوہ ملتی ھے؟ اگر شہر میں بجلی موجود ھوتی ھے تو گاوں میں کیوں 20، 20 گھنٹے بجلی نھیں ھوتی؟ اب سوال ھے قومی نمائندوں سے۔ معذرت کے ساتھہ آپ قوم اور مملکت پاکستان کے نوکر ھیں ۔ خواہ آپ ایم پی اے، ایم این اے یا منسٹر ھیں، آپ کا کام پبلک سروس ھے اس کی آپ کو تنخوں میلتی ھے آپ حضرات کو کب شرم آےگی؟ یہ ضروری کہ لوگ آپ کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے تو تب ھی آپکو کچھ نظر آےگا؟ اور جناب محترم پیر صابر شاہ آپ مشوانی قوم سے تعلق رکھتے ھیں آپ نے اپنی قوم کی خبر کبھی لی ھے؟ آپ کو پتہ ھے چھوٹے چھوٹے بچے 20، 20 گھنٹے گرمی اور مچھروں میں تڑپ رھے ھوتے ھیں۔ انجام بخار، ڈینگی اور پتہ نھیں کیا کیا۔مجھے آپ پر بھت حیرت ھونی ھے- آپ تو کم ازکم کچھ  اپنے لوگوں کی خبر لے لیا کریں۔ کیا ھوا آپ کی حکومت نھیں ھے قوم تو وھی ھے- ایک مظاھرہ ھی کرالیا کریں- اور آخر میں عوام۔ کیا بات ھے کوئ بولتا ھی ھے۔ وہ کھنے ھونگے جب ان کو کوئ مسلہ نھیں تو ھمیں کیا تکلیف ھے۔ چپ رھنا  ظلم ھے ، چپ رھنا دھشت ھے

 

گدوالیاں اور گردونواہ میں صحت کی خطرناک صورت حال


گدوالیاں بسو میرا، بگنیاں اور سری کا سب سے بڑا مسلہ اس وقت صحت کا ھے۔اس پر کوئ آواز نھیں آٹھا رہا ہے۔لوگوں کو سانپ کاٹے، دل کا دورہ پڑے یا کوئ زہریلئ چیز کھاۓ، جب تک وہ پنڈی پھنچتا ہے اس کا کام ھوجاتا ہے۔ظلم پر ظلم دیکھیں پھر لوگ کہتے ھیں اس کا ٹئم پورا تھا میں کھتا ھوں اگر اس کا ٹائم پورا تھا توپنڈی اور ایبٹ آباد کیوں دوڑ رہے ھو بھائ؟ گھر میں ھی اس کا ٹائم پورا کرا دیتے۔ھم فیس بک پر سیاست دانوں کی ڈیوٹیاں کرتے رھیں گے تو یھی حال رہے گا۔ اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت 50 فیصد لوگ خطرہ کی زندگی گزار رہے ھیں تو شائید غلط نھیں ھوگا۔ دو ھفتے پہلے میں حیران رھ گیا جب ایک ھی دن میں ہمارے چھوٹے سے علاقے میں پانچ لوگ قدرتی موت مرے۔ کوئ گردوں کی وجہ سے تو کسی کا جگر فیل ھوا اس اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ کوئ بھی صحت کی خراب صورت حال پر بات نھیں کرنا چاھتا بلکہ یہ کھتےہیں او جی اسکی تو پوری تھی۔ بیشک موت کا ایک دن لکھا ھوا ھے لیکن علاج اور صاف پانی، ملاوٹ سے پاک اشیاہ بھی بھت ضروری چیزیں ھیں خواراک میں اتنی ملاوٹ ھے کہ لوگوں کے جسموں مییں کوئ مدافعت ھی نھی رھی معمولی بیماری ان کو لے ڈوبتی ہے۔ ہر روڈ پر دس دس دکانیں کھل گئیں ھیں جو کہ بری بات نھیں ھے لیکن ان دکانوں میں زھر کی کمی نھیں ۔ پچھلے دنوں ایک بچہ ان دکانوں سے لاے ھوے لڈو کھانے سے جانبحق ھوا، اس کے بعد کیا ھوا؟ او جی اس کی پوری تھی اور مجھے یقین ھے وہ دکان دار اسی طرع ذھر بیچ رھا ھوگا۔کون شور مچائےگا؟ اللہ کی مرضی تھی۔ بے شک اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نھیں ھوسکتا لیکن علام اقبال نے کیا کھا تھا "خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نھیں بدلی، نہ ھو جس کو خیا ل آپ اپنی حالت کی بدلنے کا" اس لیے ھمے چاھیے کہ جس کو ھم ووٹ دیں اس سے ھم پوچھیں کہ بھائ صاحب ھم نے تو آپ کو ووٹ دے دیا اب آپ آئیں اور ھمیں صحت کی بھتر سھولت دیں ۔ اور اگر بھتر ھیلتھ سینٹر نھیں بنا سکتے تو کم از کم کچھ معیاری فرسٹ ایڈ کی سہولت فراھم کریں تاکہ لوگ بڑے ہسپتالوں تک کسی خطرے کے بغیر پھنچ سکیں ان سے یہ بھی کھنا چاھیے کہ ان دکانوں کی معیار بھتر بنانے کے لیے بھی کوئ محکمہ بنائیں۔ افسوس کی بات یہ ھے کہ ایک خطرناک ماحول ھے جس میں سیاست دان ھر علاقے میں چند لوگوں کو قابو کرلیتے ھیں اور اس کے بعد ووٹ لیتے رھتے ھیں - جس معاشرے میں لوگوں کو اپنی صحت کا خیال نہ ھو ان کو اپنی ووٹ کی کیا پرواہ ھوگی۔ یہ بھت عام سی باتیں ھیں۔ شائد بھت سارے لوگوں کو اس کا علم ھوگا لیکن جو اھم بات ھے وہ یہ کہ ھم سب کو اس وقت ھنگامی بنیادوں پر گدوالیاں میں ایک اچھے فرسٹ ایڈ ھیلتھ سینٹر کی اشد ضرورت ھے نھیں تو خدا ناخواستہ اموات کا یہ سلسہ بڑھتا چلا جائے گ

سکولوں میں واشروم نھیں ھیں
ھوٹلوں میں واشروم نھیں ھیں
گلیوں میں نکاسی کا کوئ بندوبست نھیں جسکی وجہ سے مچھر حد سے زیادہ ھیں
ڈاکٹر اور کمپوڈر صاحبان براھ راست انجیکشن اور ڈرپ پر پھنچتے ھیں جوکہ بھت خطرناک عمل ھے
اینٹبائیوٹک کا کوئ کنسیپٹ نھیں ھے، اگر کوئ بیمار ھوجاے تو اس کا خطرھ پچاس پرسنٹ سے اسی پرسنٹ پر چلا جاتا ھے
دو سوال
ایک اپنے آپ سے اور ایک علاقے کے صاحب اقتدار سے
اپنے آپ سے سوال:
میں نے اپنی صحت کے لیے کیا کوشش کی
ایم پی اے یا ایم این اے سے سوال:
آپ نے میرے صحت کے لیے علاقے میں کیا کیا مثلا سکولوں میں واشروم بناے؟ ھسپتال میں ورلڈ لیول کی فرسٹ ایڈ مھیا کی؟
ھسپتال میں صاف سرنجیں مھیا کی؟
گلیوں میں پانی اور کیچر کا پراپر انتظام کیا؟
سکولوں کے کمروں کے چھتوں سے پانی کی لیکیج روکی؟
سکول اور ھسپتال میں پینے کا صاف پانی کا بند وبست کیا؟
لوگوں کے لیے صاف پانی کا بندوبست کیا جیسے کہ آپ لوگوں نے شھروں میں اپنے لیے کیا؟
دوکانداروں کو صفائ پر مجبور کیا؟
لوگوں کے آمدن کے لیے کیا کیا جس سے ان کو اپنی صحت بھتر بنانے میں مدد ملسکے؟
آپ کی موجودگی میں لوگ کیوں قرضے لیکر پانی کے بور بنارھیں؟
کیا آپ نے کوئ ایسا بندوبست کیا جس سے یہ لوگ ان بوروں سے نکلنے والے پانی کا ٹیسٹ کرسکیں یا آپ نے ان کو گائید کیا ھوں؟
کیا آپ کا یہ کام رھ گیا ھے کہ آپ ان کے جنازوں میں جاکر ان پر یہ احسان کریں کہ میں فلانہ شاہ یا فلانہ خان آپ کے پاس دعا کے لیے آیا ھوں اور میں نے آپ کو عزت بخشی ھے؟

 

 

 

Welcome to mashwani.com

پخير راغلے

ماشاٌاللہ

 

Total page views (2005-2014) : 80,960

Annual report for Mashwani.com (Feb 1, 2015 - Feb 1, 2016)

Total visitors 12478. Sessons 11958. Total pageviews 80960.

Visitors (countrywise)  
Pakistan: 1455  
USA: 190, Canada:45  
Saudia Arabia: 130  
United Kingdom: 79  
UAE: 75  
Brazil: 154  
India: 108  
Ireland: 76  
Indonesia: 145  
Other countries around the world: 280  

Mashwani.com is part of about 1 billion websites in the world (2014). Over 2 billion people visit these sites in one-calendar day.

 

آئيے گدوالياں کی سير کريں

Who are mashwanis?

According to Syed Umer Khitab of Gallai, Hasan Ali of Chinar kot and Juma Khan of Dir Lower, mashwanis link back to Hazrat Gaisu Daraz. Mashwani Tribe is settled in NWFP (Khyber Pakhtoon Khwah) and Baluchistan. Mashwanis are mainly located in Gudwalian, Sirikot, Attock, Umar Khana, Sherawal Kundi, Ghazi, Hemlat and many other villages of Haripur Hazara, NWFP (Khyber Pakhtoon Khwah). Dir District, Swabi and Mohmand Agency are other homes of Mashwani tribe. mashwanis played a vital role in fighting against sikhs and are known heroes of their time. They are brave. Their mother language is Pashto. They have a unique culture. Mashwani people are very friendly and are famous for hospitality. More about mashwanis here

 

 




 

پاکستان پائندہ باد

مشوانی ڈاٹ کام زندہ باد

 

 

**********************************************************************

 

 

 

اردو کے ليے يھاں کلک کريں



gudwalian-mashwani